Arz e Sukhan - Debacha

April 30, 2007 on 10:26 pm | In Pehli Barish | No Comments

عرض سُخن

(دیباچہ طبعِ اوّل)

 اردو زبان ایک استعارہ ہے جسے ہر دور کے ادیبوں کو ازسرِ نو سمجھنے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ زبان ، اپنے ماحول کے وجود اور وجدان کے ملاپ سے منفقئہ شہود  پر آتی ہے ۔ جب تک وجود اور وجدان دونوں کی دہلیز پر کوئی ، موجود ، نہ ہو ، زبان ، یا کلام ، ممکن نہیں غیر موجودگی وجود میں وجدگی کیفیت پیدا نہیں کر سکتی ۔ وجو دیت کی قید میں مبتلا کر سکتی ہے جب کوئی ، موجود ، نہ ہو ، ہم  اپنے وجود کی اذّیت تو محسوس کرسکتے ہیں لیکن زندگی کی رواں دواں حرکت ممکن نہیں ، اس وقت خون اچھلنا بند کردیتا ہے ۔ سورج کے آنے اور جانے کی گرمی اور شفق رنگی نہیں رہتی ۔

 اس خطّئہ زمین میں انسانی زندگی نے پچھلی تین صدیوں میں اپنے جسم اور روح کے وصال کے لیے اردو زبان کو وجود دیا ۔ اپنے ماضٰ ، حال اور مستقبل اس وجود سے منسلک کیے ، روایات تجربہ اور کشف اس میں شامل کیے اور اسے اپنی آرزوئے حیات کا ایک وسیلہ بنایا ۔ اس خطّئہ زمین کی انسانی زندگی اس اعتماد سے اُبھری کہ وہ حواس کی جنّت سے نکل کر آفاق کی وسعتوں کی طرف روانہ ہوگی لیکن حال کی دہلیز پر ہم وجودیت کی قید میں جکڑے گئے اور حقیقت سے دُور جا پڑے ۔

 حقیقت کے سوا اور کون موجود ہے ؟ حُسن ، اظہارِ حقیقت کا وجود ہے اور عشق اظہارِ حقیقت کا وجدان دونوں کا وصال زمان و مکاں کے ہر ذرّے میں موجزن ہے اور تمام انفس و آفاق کی حدود میں حرکت اور زندگی کا موجب ہے " میں " اور " تُو " اِسی رشتے کے دو پیکر ہیں ۔ دو ایسے سائے، جو وصال و فراق کی دھوپ چھاؤ ں میں گھٹتے بڑھتے ، ملتے ملاتے اور پَھلتے پُھولتے ہیں ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کا لباس ہیں ،ایک دوسرے کو اوڑھ کر ایک دوسرے کے لبادوں میں ملبوس وحال ، کے لمحے کی دہلیز سے گزر کر اپنے مستقبل کو کندھوں پر اٹھائے ہوئے ماضی کی وادیوں میں اترتے جاتے ہیں ۔ حل کا لمحہ تو شعور کی ایک ایسی جھلک ہے ، جس میں حقیقت اپنی چھب دکھلا کر ہمیں مستقبل کی آرزو میں ماضی کے قدیم خزینوں کی طرف لے جاتی ہے اور شعور کی ایسی منفرد اور ٹھری ہوئی ساکت جھلکیوں کا ایک سلسلہ لمحوں میں کچھ ایسا پر دیا ہوا ہمارے سامنے ہوتا ہے کہ ہم گزررہے ہوتے ہیں اور حرکت ہمیں ان لمحوں میں پردئی ہوئی کڑی میں نظر آتی ہے ۔ یہ لمحے ، شعور کی اس جھلک پر لفظوں کے موتی ایجاد کرتے ہیں اور یہ لفظوں کے موتی ہم کو ماضی خزینوں کی طرف لے جاتے ہیں اور اس طرح ہماری زندگی کا یہ سفر ، ہر لمحہ ، ہر لحظہ جاری رہتا ہے ۔ ماضی ، حال اور مستقبل شعور کے مختلف علاقے ہیں ، جہاں مختلف زمانوں ، زمینوں اور زبانوں میں انسانی زندگی کے سفر کی داستان کئی فصلوں کی صورت میں بار بار بوئی جاتی ہے اور بار بار کاٹی جاتی ہے۔

 ایک عرصے تک کچھ اسی طرح، اس خطّئہ زمین پر ، جسے سر زمینِ پاک و ہند اب کہا جاتا ہے انسانی  شعور نے من و تو کے وصال سے لفظوں کے نئے موتی ایجاد کیے ۔ فہم و ادراک کے نئے اور پرانے خزینے دریافت کیے اور انسانی زندگی کی جیتی جاگتی آواز اور انسانی فہم و ادراک کی بولتی ہوئی زبانِ" اُردو " اس خِطّہ کے افق پر نمودار ہوئی ۔

 شاعری جذبے اور تخیّل سے جنم لیتی ہے ۔ جذبات اور تخیّلات کے لیے ماحول کی چار دیواری کا ہونا لازمی ہے ۔ اس لیے کسی معاشرتی ماحول کی چار دیواری کے بغیر کسی زبان کی شاعری کا پرورش پانا ممکن نہیں ۔ ماحول کے رنگ و بُو سے آزادرہ کر کوئی جذبہ یا تخیّل دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا ۔ جذبے کی قوّت و توانائی اور تخیّل کی خوبصورتی اور دلکشی کا انحصار معاشرتی ماحول کی پائیداری اور اس ماحول کے مخصوص حالات کی سازگاری ہے ۔

 اردو زبان کی جس معاشرتی ماحول میں پرورش ہوئی ہے، اس کی پچھلے دو سو برس کی  تاریخ ہمیں یہ بات مان لینے پر مجبور کرتی ہے کہ ہماری اجتماعی روایات اور اختیارات میں اس قدر تیزی کے ساتھ پے درپے تبدیلیاں آتی چلی گئیں ہیں کہ ماحول معاشرتی اعتبار سے بہت حد تک نا پائیدار ، بے اصل اور غیر یقینی نظر آتا رہا ہے اور بار بار ہمارے جذبات اور تخیّل کے روایتی اور تاریخی رشتے ٹوٹ ٹوٹ کر بنتے بگڑتے رہے ہیں ۔ افرا تفری کا یہ تمام عہد خصوصا عذر کے بعد کا زمانہ اور تقسیم پاک و ہند کا دور اور شاعری کے لیے آزمائش اور ابتلا کی سنگین ترین گھڑیاں تھیں ۔ ہمارے جذبات اور تخیّل کے وصال کے لیے نہ تو ماحول کی پرانی حویلی رہی اور نہ نیا گھر ہی بنا ۔ پرانی حولی کے نقوش بھی باقی ہیں اور نئے گھر کا اُدھورا سا نقشہ بھی سامنے ہے ۔ اس حال میں شاعر کو اپنی ذات کے علاوہ در حقیقت کسی اور چیز کی حقیقی ہونے پر بھروسہ نہیں رہا ۔ اس لیے جذبات اور تخیّل پر داخلی رجحانات کا غلبہ ایک لازمی امر تھا ۔ ہمارے جذبات کا اظہار بھی داخلی تھا اور ہمارے تخیّل کی پرواز بھی داخلی تھی ۔

 اردو شاعری کے " عشقِ "  اور " حُسن " کا قِصّہ دونوں دروں بینی کے آئینہ دار رہے ۔ اس کے طفیل عشق دماغ کا خلل قرار دیا گیا اور حُسن کو نظر کا دھوکہ سمجھایا گیا ، یعنی نہ ہمیں اپنے جذبات حقیقی نظر آئے اور نہ ہی ہمیں اپنے تخیّل میں اُچھلتی کودتی رواں دواں زندگی کی حرارت محسوس ہوئی اور اس طرح آہستہ آہستہ شاعر اور اس کی شاعری زندگی کے بہتے ہوئے دھارے سے دور ہوتے گئے جس شاعر نے شاعری کی مخصوص روایت پر اکتفا کی ، وہ " حُسن و عشق " کا داستان گویا " ادب برائے ادب " کا بیمار ٹھرا اور جس نے زندگی کے قریب آنے کی جرئات کی وہ فلسفی یا ولی اللہ قرار دیا یا سیاستداں اور زمانہ ساز لیکن اِس تمام دور میں اِن دونوں قسم کے شاعروں کے جذبات اور تخیّل کا رجحال داخلی زیادہ اور خارجی کم تھا۔

 یہاں کسی حد تک کچھ تفصیل کے ساتھ انسانی زندگی کے داخلی اور خارجی پہلوؤں کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔ جذبات ہمارے اندر کی دنیا کو خواہش اور طلب کے زور پر باہر کی دنیا سے آشنا کرتے ہیں اور نحیل باہر کی دنیا کو ہمارے حواس کے رستوں سے ہماری باطنی دنیا سے ملاتا ہے باطن کی دنیا اور ظاہر کی دنیا مل جُل کر ہماری زندگی میں عقل اور روح کی وحدت کو قائم رکھتے ہیں اور اس وحدت کو قائم رکھنے کے لیے ایک ایسے معاشیاتی ماحول کا ہونا ناگزیر ہے جس میں انسانوں کا ایک ملّی یا سماجی گروہ اپنی باطنی دنیا اور ظاہری دنیا کا وصال پاسکے ۔ جذبات جہاں عشق اور محبت کے روپ میں اپنے ازلی اور ابدی ساتھی کے آغوش میں حُسن اور سچائی سے ہم کنار ہوسکیں ، جہاں باطن اور ظاہر دونوں میں قربت کا احساس پیدا ہوسکے ۔

 کسی حد تک جدید اردو شاعر کا اور بہت حد تک جدید تر اردو شاعر کا حال آسٹرین ناولسٹ کا فکا ایسا ہے ۔ اس نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا :" میں اپنی ذات کے علاوہ باقی تمام اشیاء سے ایک خلا کے درمیان میں آجانے کی وجہ سے منقطع ہوگیا ہوں ۔ اب مجھے ہر چیز نظر کا دھوکا دکھائی دیتا ہے۔ کنبہ ، دفتر، گلی کُوچے ، عورت ، سب دھوکے ہیں ، جو کبھی کبھی پاس آتے ہیں اور پھر دُور ہوجاتے ہیں ۔ پس سچائی ہے یہ کہ میں اپنے سر کو ایک ایسی دیوار سے پھوڑرہا ہوں جس میں نہ کوئی دروازہ ہے، نہ کھڑکی " ____ یہ دیوار جدید اردو شاعر کے اپنے وجود کی دیوار ہے۔ جس سے وہ پچھلے کئی سالوں سے اپنا سر پھوڑ رہا ہے اور اس دیوار میں نہ کوئی در ہے نہ کوئی روزن ،اور اگر ہیں بھی تو وہ بند کر دیئے گئے ہیں تاکہ جذبے اور تخیل کی اس فطری آرزو کا گلا گھونٹا جاسکے کہ وہ ہر دم کسی ماحول میں بسنے اور رچنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں ۔ جدید شاعر کے لیے جذبے اور تخیل کا یہ عمل اس کی اپنی ذات کے لیے غیر ضروری ہے کسی معاشرتی ماحول  سے کسی وابستگی کے بغیر اسے یہ خواہش کیونکر ہو کہ وہ ماضی ، حال اور مستقبل کو ان کے تمام لوازمات کے ساتھ اپنے وجود میں اپنے وجدان میں زندہ رکھ سکے اور عشق اور حسن کے وصال کے رشتوں کو جذبے اور تخیل کے مناسب امتزاج سے قائم کرسکے اور زندگی کی پُرانی قدروں کو نئی اقدار سے آن ملائے اور زندہ رہنے کی خواہش کو مرنے نہ دے بلکہ اسے نئی آس اور نئی پیاس سے ہم آہنگ کرے اور نئی دنیا کے متلاشیوں کے لیے امید کا پیغام اپنی شاعری کی ہر ی بھری شاخ سے لاکر دے ۔۔

 حُسن کی رعنائی اور سچائی کی توانائی محسوس کرنے کے لیے شاعر کو اپنی ذات کی انائیت اور انفرادیت سے بہت حد تک دستبردار ہونا پڑتا ہے اور قلب صافی کو پہلو میں لیے کسی معاشرے کے ماضی ، حال اور مستقبل کی وادیوں میں سرگرداں رہنا پڑتا ہے ۔ حقیقی شاعر معاشرے سے کبھی نا امید اور بذدل نہیں ہوتا ، اُمید کا دامن نہیں چھوڑتا ۔ وہ معاشرے کی ذلتوں کو برداشت کرتا ہے ۔ حال کے طمانچوں کو بہتا ہے لیکن اس کی آنکھ حُسن اور سچائی کے تمام مناظر کو ماضی ، حال اور مستقبل کے پس منظر میں دیکھنے اور سمونے کی قوّت رکھتی ہے اور وہ اپنے باطن سے تمام حسین اور سچّے جذبوں کو باہر کی حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے اور شاعری کا نغمہ ہمیشہ اس دوہری حقیقت کے مضراب سے پُھوٹتا ہے اور اس دوہری حقیقت کا مضراب شاعر کا دل ہوتا ہے ۔ اس عبوری دور میں اردو شاعری دل کی اس ماہیت سے محروم رہی ہے ۔

 تنہا شعور اور کورا کاغذ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں کورے کا غذ کی کُلفت کی  داستان بہت بہت طویل ہے ۔ شعور کی زمین جب پانی کو ترسی ہے۔اور اس کی اپنی کوکھ سے پانی کے تمام خزانے خشکی کی نذر ہوجاتے ہیں تو شعور کورے کاغذ کی سطح پر ماہئی بے آب کی طرح تڑپتا ہے خشک مٹی کی بو باس اور اس کے تمام رنگ اور زنگ ایک زہر کی طرح اس کے ریشے ریشے میں سرایت کرنے لگتے ہیں ۔ لاشعور کی بھیانک گزری ہوئی راتیں ، بیاباں دن اور ان کی تمام صعوبتیں اس کے چشمئہ حیات کی پر جمی ہو ئی کانی کی اشکال میں اور ڈراؤنے خوابوں کی صورت بگڑتے بنتے ہرتے ہیں ۔ شعور کی اصل زبان وہ الفاظ ہیں جو شاعری کے خطّے میں آباد ہوتے ہیں ۔ شاعر اور شعور ان کی تلاش میں سرگرداں پھرتا ہے ۔ ماضی کے گردو غبار اور مستقبل کی دُھند اور کہرے اس کا سامنا ہوتا ہے ۔ جذبہ ، خیال ، اور تصوّر ، ایک طرف ۔ ہوا ، چاندنی اور دھوپ دوسرے طرف ۔ آفاق کی وسعتیں مستقبل بن کر نفس اور زمین کی تاریکیاں اور اس کی کلفتیں ماضی کا روپ دھار کر شاعر اور شعور کے سامنے کبھی ڈھکی چھپی اور کبھی ننگی حقیقتیں بن کر آکھڑی ہوتی ہیں وہ زندگی کے ان جامدا اور لامتناہی سلسلوں سے گزرتا ہے ۔ ایسی الجھن میں کبھی وہ ماضی کی طرف لوٹتا ہے اور روایات کو آواز دیتا ہے ۔زمین اور شعور کی گہرائیوں میں دفن کی ہوئی خوشیوں اور اداسیوں کو لفظوں میں پردتا ہے اور کبھی مستقبل کے دُھندلے نقوش سے ہوا کے رُخ پر اپنے آپ کو انجانے بادلوں کے قافلوں کے سپرد کردتا ہے ۔ ماضی کے قافلوں کے گردو غبار اور مستبقل کے دُھند لے نقوش اور بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک کی سوا جب اسے کچھ اور نظر آتا تو پھر وہ ہوا ، چاندنی ، دھوپ ، جذبئہ ، خیال اور تصوّر اور اپنے وجود اور اپنے وجدان کو ساتھ لے کر ، تُو، کو پکارتا ہے اور اُسے محسوس ہوتا ہے کہ ، تُو، کے سوا اور کوئی موجود نہیں ۔ اس کے جسم دروح کا ذرّہ ذرّہ جب ، تُو، کی تلاش میں نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک خلقِ جدید محسوس کرتا ہے اور اس کا کلام اور اس کا بیان ، جدید ، کی حدوں کو چُھوتا ہے ۔ وہ جدید ، جس میں جدّت اور تجوید ، وجود اور وجدان ، حُسن اور عشق ، میں اور ،تُو، کا وصال ہوتا ہے ۔ 

 ناصر کاظمی من و تو کے اسی وصال کا شاعر ہے ۔ اردو شاعری حُسن و شعق ، من و تو اور وجود ووجدن کے جس بُعد کا شکار رہی ، ناصِر نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بُعد کی اس خلیج کو پاٹ دیا ہے ، پہلی بارش میں غزل اور نظم کا امتیاز اٹھ گیا ہے ۔ ،میں ، اور ، تُو ، کا وصال ہوگیا ہے ۔ جدّت اور تجدید ہمآغوش نظر آتے ہیں اور روایت اور وجدان کے امتزاج نے زبان کے شعور کے مختلف علاقوں کو ایک کردیا ہے ۔

 غزل روایت کی طرف جُھکتی ہے ، ماضی کو آواز دیتی ہے، اسے فارسی اور عربی کی خوچہ چینی پر مباہات و افتخار رہا ہے اور نظم میں جدید دور کا اضطراب ہے ۔ ناصر نے ان غزلوں میں جذبات اور تخیل میں سناکحت کا جو رشتہ استوار کیا ہے، اس سے دونوں کی اصل واضح بھی ہے اور غیر موجود بھی ۔ اور یہ اس طرح ممکن ہوا کہ ناصر کسی بے روزن و دَر ، دیوار سے اپنا سرنہیں پھوڑ رہا ہے ،ا س نے نفس کی انا کے خلا کو اپنے اور ماسواکے درمیان سے دور کرلیا ہے۔ اس کو کوئی چیز دھوکا نہیں دیتی ، وہ ہر چیز کو اپنی اصل میں دیکھتا ہے ۔ اپنے نفس کی انا کو چھوڑ کر وہ سپرد گی کے جس عالم میں ہے اس میں جذبات و تخیل کا بُعد مفقود اور من و تو کا امتیاز معددم ہے ۔ اسی عالمِ سپردگی میں شاعر، جدید ، کی حدوں کو چُھوتا ہے ۔ اس کے لیے وہ لمحہ پہلی بارش کے نزول کا لمحہ ہوتا ہے۔ اسے اس بارش کے ہر قطرے میں نامعلوم سے معلوم اور پھر معلوم سے نامعلوم تک کا سفر ہزار رنگوں اور ہزار داستانوں میں نظر آتاہے ۔ ناصر کاظمی کی یہ شاعری اردو کی پہلی بارش ہے اور ناصِر کاظمی بزن اردو بارش کا پہلا قطرہ ۔

        غالب احمد

        لاہور ۔ یکم مارچ ١٩٨٥ء

Next Page »

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^